پنجی ، 15؍ستمبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) گوا میں بدھ کو کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا، پارٹی کے 8 ایم ایل اے کانگریس چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہو گئے ۔وزیر اعلیٰ پرمود ساونت کی موجودگی میں 8 ممبران اسمبلی بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ بی جے پی میں شامل ہونے والے ایم ایل ایز میں مائیکل لوبو اور دگمبر کامت کے علاوہ سنکلپ امنوکر، روڈولف فرنانڈس، راجیش فالدیسائی، کیدار نائک، الیکسیو سیچیرا اور ڈیلیاہ لوبو شامل ہیں۔سابق اپوزیشن لیڈر مائیکل لوبو نے آج یہاں نامہ نگاروں کو بتایا، کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی آج میٹنگ ہوئی اور پارٹی کے آٹھ ایم ایل ایز نے بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ایک قرارداد منظور کی گئی اور اس کی کاپی اسمبلی سکریٹری کو سونپی گئی۔مسٹر لوبو نے کہاکہ ہم وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ پرمود ساونت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں… ’کانگریس چھوڑو، جوڑو بی جے پی۔‘کانگریس کو یہ جھٹکا ایسے وقت لگا ہے جب ملک بھر میں بھارت جوڑو یاترا نکالی جا رہی ہے جس میں پارٹی لیڈر راہل گاندھی پد یاترا کر رہے ہیں۔بقیہ تین کانگریس ایم ایل اے آلٹن ڈی کوسٹا، گوا کانگریس کے ورکنگ صدر الیماو یوری اور وکیل کارلوس فریرا ہیں جو بی جے پی میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔اس سال فروری میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے کل 11 ایم ایل ایز نے کامیابی حاصل کی تھی۔ فی الحال آٹھ ایم ایل ایز کے بی جے پی میں جانے کے بعد اب کانگریس کے پاس صرف تین ایم ایل اے رہ گئے ہیں۔ اسے کانگریس کے لیے بڑا جھٹکا سمجھا جا رہا ہے ۔
دریں اثنا کانگریس نے گوا میں ’آپریشن کمل‘کے تعلق سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے آج کہا کہ کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا کی کامیابی سے بی جے پی قیادت پریشان ہے ، اس لیے وہ اس طرح کی گندی سیاست کررہی ہے۔ کانگریس کی ترجمان سپریہ سرینیت نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آپریشن کمل کو چانکیہ نیتی کہتے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ یہ سب سے بڑی بدعنوانی ہے ۔ گوا میں ایم ایل اے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ-ای ڈی یا کس خوف سے بی جے پی میں گئے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن بھارت جوڑو یاترا کی وجہ سے بی جے پی پریشان ہے ، اس لیے وہ اس طرح کی کارروائیاں کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کا عام آدمی مہنگائی سے پریشان ہے اور بھارت جوڑو یاترا میں آئے روز اس کی شکایتیں موصول ہو رہی ہیں۔ گوا میں جن ممبران اسمبلی نے انتخابات میں بی جے پی کے خلاف ووٹ مانگے تھے آج اسی بی جے پی میں کس منھ سےجارہے ہیں، یہ سوال ان سے کیا جانا چاہئے ۔ ان کا کہناتھا کہ جو ماحول بنایا گیا ہے اس میں اپوزیشن کی سیاست کرنا آج مشکل ترین کام ہو گیا ہے ۔